ہوا جو وقف غم وہ دل کسی کا ہو نہیں سکتا
Appearance
ہوا جو وقف غم وہ دل کسی کا ہو نہیں سکتا
تمہارا بن نہیں سکتا ہمارا ہو نہیں سکتا
سنا پہلے تو خواب وصل پھر ارشاد فرمایا
ترے رسوا کئے سے کوئی رسوا ہو نہیں سکتا
لگاوٹ اس کی نظروں میں بناوٹ اس کی باتوں میں
سہارا مٹ نہیں سکتا بھروسا ہو نہیں سکتا
تمنا میں تری مٹ جائے دل ہاں یہ تو ممکن ہے
مرے دل سے مٹے تیری تمنا ہو نہیں سکتا
نہ فرصت ہے نہ راحت ہے نہ بیخودؔ وہ طبیعت ہے
غزل کیا خاک لکھیں شعر اچھا ہو نہیں سکتا
This work is now in the public domain because it originates from India and its term of copyright has expired. According to The Indian Copyright Act, 1957, all documents enter the public domain after sixty years counted from the beginning of the following calendar year (ie. as of 2024, prior to 1 January 1964) after the death of the author. |